SKU: 66092931272

JHOOTAY ROOP KAY DARSHAN by RAJA ANWAR

Sale price$360.00 Regular price$400.00
Save 10%

Pay in installments of $100.00 with ShopPay, AfterPay and Klarna

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 20 - Aug 25

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

JHOOTAY ROOP KAY DARSHAN by RAJA ANWARJHOOTAY ROOP KAY DARSHAN by RAJA ANWAR Author: RAJA ANWAR Binding: hardback Pages: 160 ISBN: 978 969 662 481 3 Categories: LETTERS MEMOIR Publisher: BOOK CORNER 1991 ( ) ! 1989 9 ( )

JHOOTAY ROOP KAY DARSHAN by RAJA ANWAR

Author: RAJA ANWAR
Binding: hardback
Pages: 160
ISBN: 978-969-662-481-3
Categories: LETTERS MEMOIR
Publisher: BOOK CORNER

راجہ انور کو شاید آج کی سوشل میڈیا یا ٹک ٹاک ایج کی نئی نسل زیادہ نہیں جانتی۔ لیکن میں انھیں 1991ء سے ان کی کتاب ’’جھوٹے رُوپ کے درشن‘‘ کی وجہ سے ہی جانتا ہوں۔ مجھے یاد ہے ملتان یونیورسٹی میں اکثر طالبِ علموں کی طرح میرے نزدیک بھی رومانٹک لیکن انقلابی کتاب یہی تھی۔ اگر رومانوی خط و کتابت کرنی ہے اور انقلابی بننا ہے تو راجہ انور کو پڑھیں۔ یہ کتاب میرے ہاتھ لگی اور میں نے بھی وہ رومانوی خطوط پڑھے اور خود کو راجہ انور نہیں بلکہ ’’راجہ اِندر‘‘ سمجھا۔
راجہ انور ساری عمر ایک سیاسی ورکر اور باغی رہے ہیں۔ انھوں نے خطرات سے بھرپور زندگی گزاری ہے۔ جلاوطنی بھگتی، موت کا سامنا کیا، افغانستان کی جیل میں رہے۔ اُن دنوں کی دردناک کہانی پر مشتمل کتاب ’’قبر کی آغوش‘‘ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ راجہ انور سے میری بھی چند ملاقاتیں رہی ہیں۔ وہ ایک شاندار کمپنی ہیں۔ بہترین گفتگو اور پوٹھوہار کی خوبصورت دھرتی کی روایتی محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔
ایک دن پتا کیا، وہ شہر میں نہ ملے۔ اِدھر اُدھر سے سن گن لی تو معلوم پڑا اُن کی طبیعت خراب ہوگئی تھی تو علاج کے لیے باہر تشریف لے گئے ہیں۔ چند دوستوں سے پوچھا تو بھی ان کا کچھ پتا نہ چلا۔ پھر ایک لمبی جدائی۔ ایک دن شاہد صدیقی صاحب نے ان کےساتھ اپنی تصویر شیئر کی تو پتا چلا راجہ انور کی محفلیں پھر سے آباد ہوگئی ہیں۔ دل شاد ہوا۔
راجہ صاحب جتنی اچھی گفتگو اور تقریر کرسکتے ہیں اتنا ہی اچھا وہ لکھتے ہیں۔ بک کارنر جہلم نے اب راجہ انور کی کلاسک کتاب ’’جھوٹے رُوپ کے درشن‘‘ کا نیا ایڈیشن چھاپ کر نئی نسل کو ان سے متعارف کرانے کی خوبصورت کوشش کی ہے۔ اگر آپ اپنی گزری جوانی کے دنوں کے عشق کا ذائقہ محسوس کرنا چاہتے ہیں، کسی بھولی بسری حسینہ کی یادوں سے دل بہلانا چاہتے ہیں، محبت اور عشق کی سرد راکھ میں بچی کھچی چند چنگاریوں کو پھر سے سلگانا چاہتے ہیں، یونیورسٹی اور ہاسٹل لائف کے گزرے خوبصورت دنوں میں کچھ دیر کے لیے گم ہونا چاہتے ہیں اور خوبصورت نثر پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں تو اس سے بہتر کتاب کوئی نہیں ہو سکتی۔
راجہ انور کو صحت مند ہو کر اپنے وطن اور ادب کی دنیا میں دوبارہ واپسی مبارک ہو۔ بہت کم خوش قسمت ہوتے ہیں جو ایک دفعہ ڈوب جائیں تو دوبارہ اسی شان سے طلوع ہوں جیسے راجہ انور ہوئے ہیں۔
کیا آپ پوٹھوہار کے راجہ کا سواگت نہیں کریں گے؟
(رؤف کلاسرا)

’’سارے نابالغ ایک سائیڈ پر ہو جائیں اور کان پکڑ لیں!‘‘ ہال میں سراسیمگی پھیل گئی، یہ فقرہ ہم سب کے لیے عجیب تھا، ہمیں بلوغت کی دیواریں عبور کیے مدّت ہو چکی تھی لہٰذا ہم سامنے کھڑے ڈشکرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔ ڈشکرے نے شیطانی قہقہہ لگایا اور کہا، ’’جس جس نے ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ پڑھی ہوئی ہے وہ بالغ ہے اور جو ابھی تک اس سے محروم ہے وہ نابالغ ہے، لہٰذا جلدی فیصلہ کرو تم میں نابالغ کون ہے اور بالغ کون؟‘‘ ہم سب بلوغت کے اس ٹیسٹ سے ناواقف تھے، چنانچہ ہم نے چپ چاپ کان پکڑ لیے اور ڈشکرا اپنے ساتھیوں کے ساتھ بڑی تفصیل سے ہماری تشریفوں کا معائنہ کرنے لگا۔
یہ واقعہ 1989ء میں پنجاب یونیورسٹی کے 9 نمبر ہاسٹل میں پیش آیاتھا۔ میں نے تازہ تازہ ایل ایل بی میں داخلہ لیا تھا، ہاسٹل گیا تو پہلی رات سینئر سٹوڈنٹس نے ہماری ریگنگ شروع کر دی۔ سینئرز کا لیڈر منڈی بہائوالدین کا کوئی چدھڑ تھا، شکل اور آواز سے بدمعاش لگتا تھا جبکہ ہم سب چھوٹے چھوٹے چوچے تھے۔ ڈشکرے چدھڑ کا بلوغت کا صرف ایک ہی معیار تھا جس سٹوڈنٹ نے کتاب ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ پڑھ رکھی ہو وہ اس کی نظر میں بالغ تھا اور باقی نابالغ، ہال میں موجود تمام نئے طالبِ علم اس رات نابالغ نکلے، چنانچہ منڈی بہائوالدین، پھالیہ اور سرگودھا کے گوندل، رانجھے اور چدھڑ ساری رات ہماری تشریفوں پر طبلہ بجاتے رہے۔ میں نے دوسری صبح سب سے پہلے یونیورسٹی کی بک شاپ سے ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ خریدی اور شام سے پہلے پہلے بالغ ہو گیا۔
یہ راجہ انور کے ساتھ میرا پہلا تعارف تھا، راجہ انور ایک طلسماتی شخصیت کا نام تھا۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی میں فلاسفی ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لے لیا، ذہین اور پڑھاکو تھے، خوب صورت بھی تھے اور بلاکے مقرر بھی تھے چنانچہ پوری یونیورسٹی میں مشہور ہو گئے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی کنول نام کی ایک لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوئے، یہ دونوں ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے تھے، محبت ختم ہو گئی لیکن خط بچ گئے۔ راجہ انور نے یہ خط ’’جھوٹے روپ کے درشن‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع کر دیے اور اس کتاب نے پورے ملک میں تہلکہ مچا دیا۔ ہمارے زمانے میں یہ کتاب طالبِ علموں کے غیرنصابی نصاب کا حصہ ہوتی تھی، یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی نوجوان پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے اور وہ یہ کتاب نہ پڑھے۔
راجہ انور آج کل پاکستان میں ہیں، میرے گھر کے قریب رہتے ہیں، میں ان سے کبھی کبھار ملتا رہتا ہوں۔ یہ بہت ہی شان دار انسان ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں وِژن، تجربہ اور احساس تینوں نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ میں نے پاکستان میں ان سے بہتر نثرنگار نہیں دیکھا، یہ لفظوں سے نہیں لکھتے، جذبات سے لکھتے ہیں اور قلم سے تحریر نہیں کرتے، شہنائی، بانسری اور ہارمونیم سے تحریر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں بے تحاشا روانی دے رکھی ہے۔ میرا دعویٰ ہے آپ بس ان کی کوئی تحریر شروع کرلیں، یہ آپ کو اس کے بعد دائیں بائیں نہیں دیکھنے دے گی۔
(جاوید چودھری)

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 66092931272

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.4 ★★★★★
Based on 26 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
E
Verified Purchase
Eric C.
Natrona Heights, US
★★★★★ 5
Excellent choice for long oil change intervals.
Size: 1 Quart, Pack of 6
I'm a former dealership mechanic and for years I used whatever we had in the bulk tank which was usually Valvoline conventional. My last job was at a German car dealership. Castrol was the oil recommended by the German manufacturers and that's when I started using Castrol. In my experience Castrol is an excellent oil. My 2014 Ford just rolled over 242,000 miles and even with factory 10,000 mile oil change intervals, from what I can see through the oil fill the top end of the engine is still clean. I've never had to remove the valve cover. It's using about a quart between oil 10,000 mile oil changes which is great because when it was new it used about a 1/2 quart between changes.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 28, 2026
D
Verified Purchase
Doraiky
Grantham, US
★★★★★ 5
Bueno
Size: 5 Quarts
Bueno
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 3, 2026
E
Verified Purchase
E.B.
Whiting, US
★★★★★ 5
switched from Mobil 1
Size: 5 Quarts
always used Mobil 1, my 2003 accord v6 always burned a little bit of oil, switched to this and it barely burns any at all now. will continue to use this from now on.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 27, 2026
J
Verified Purchase
Joe S
Chelsea, US
★★★★★ 4
ITS GOOD OIL
Size: 5 Quarts
OVERALL NOT BAD BUT USING IT TO SEASON A CAST IRON WILL CREATE A BIT TOO DARK OF A SHEEN. WISH THE MANUFACTURER MENTIONED THAT
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 8, 2025
P
Verified Purchase
patricia
Lowell, US
★★★★★ 5
buenos
Size: 5 Quarts
Siempre compro de este aceite y es buenisimo me gusta
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 5, 2026

recommand products